پاکستان کی نئی سولر پالیسی اوراس کے اثرات
پاکستان کی نئی سولر پالیسی2026 اوراس کے اثرات
Waleed Malik
2/15/20261 min read


پاکستان کی نئی سولر پالیسی اوراس کے اثرات
پاکستان کی نئی سولر پالیسی (Prosumer Regulations 2026) کے تحت حکومت نے نیٹ میٹرنگ کے نظام میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد "نیٹ میٹرنگ" کو ختم کر کے "نیٹ بلنگ" (Net Billing) کا نظام نافذ کرنا ہے۔
نیچے اس پالیسی کی تفصیلات اور عوام پر ہونے والے اثرات آسان اردو میں بیان کیے گئے ہیں:
1۔ نئی پالیسی میں کیا تبدیلی آئی ہے؟
پہلے پاکستان میں "یونٹ کے بدلے یونٹ" کا حساب ہوتا تھا (یعنی اگر آپ نے دن میں 100 یونٹ گرڈ کو دیے اور رات کو 100 یونٹ استعمال کیے، تو آپ کا بل صفر ہوتا تھا)۔ اب اسے بدل کر "نیٹ بلنگ" کر دیا گیا ہے:
خریداری کی قیمت (Import): جب آپ واپڈا (گرڈ) سے بجلی لیں گے، تو آپ کو وہی مہنگا ریٹ دینا ہوگا جو عام صارفین دیتے ہیں (تقریباً 37 سے 55 روپے فی یونٹ)۔
فروخت کی قیمت (Export): جب آپ اپنے سولر کی اضافی بجلی واپڈا کو بیچیں گے، تو حکومت اسے نیشنل ایوریج پاور پرائس پر خریدے گی (جو کہ اب تقریباً 11 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے)۔
معاہدے کی مدت: نئے سولر کنکشنز کے لیے معاہدے کی مدت 7 سال سے کم کر کے 5 سال کر دی گئی ہے۔
2۔ عوام پر اس کے اثرات
اس پالیسی کا اثر مختلف طبقوں پر مختلف ہوگا:
بل میں اضافہ اب سولر صارفین کے بل مکمل صفر نہیں ہوں گے۔ چونکہ آپ بجلی سستی بیچیں گے اور مہنگی خریدیں گے، اس لیے ماہانہ بل میں واضح فرق آئے گا۔
سرمایہ کاری کی واپسی (ROI) پہلے سولر سسٹم کے پیسے 3 سے 4 سال میں پورے ہو جاتے تھے، اب اس نئے نظام کے بعد سسٹم کی قیمت پوری ہونے میں 6 سے 8 سال لگ سکتے ہیں۔
بیٹری اسٹوریج کا رجحان لوگ اب گرڈ کو بجلی بیچنے کے بجائے ہائبرڈ سسٹمز (بیٹریوں) کی طرف جائیں گے تاکہ اپنی پیدا کردہ بجلی خود ہی رات کو استعمال کر سکیں۔
پرانے صارفین حکومت کے مطابق جن کے پاس پہلے سے نیٹ میٹرنگ لگی ہوئی ہے، ان کے پرانے ریٹس (تقریباً 26-27 روپے) معاہدے کی مدت ختم ہونے تک برقرار رہیں گے، لیکن ان کی بلنگ اب سہ ماہی کے بجائے ماہانہ ہوگی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ سولر صارفین کی تعداد بڑھنے سے نیشنل گرڈ پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور وہ لوگ جو سولر نہیں لگا سکتے (غریب طبقہ)، ان پر بجلی کے ریٹ بڑھنے کا دباؤ آتا ہے۔ اس لیے سسٹم کو متوازن رکھنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
سادہ الفاظ میں، اب سولر لگانا پہلے جتنا منافع بخش نہیں رہا، لیکن پھر بھی یہ مہنگی بجلی اور لوڈ شیڈنگ سے بچنے کا ایک بہتر راستہ ہے۔ اگر آپ نیا سسٹم لگوانے کا سوچ رہے ہیں، تو اب بیٹریوں (Lithium/Dry Batteries) پر زیادہ توجہ دینا پڑے گی تاکہ آپ واپڈا سے کم سے کم بجلی لیں۔
